Thread Rating:
  • 41 Vote(s) - 2.29 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
سمندر میں اُترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
#1
Star 
سمندر میں اُترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اِجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تیری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
مَیں ہنس کے جھیل لیتا ہوں جُدائی کی سبھی رسمیں
گلے جب اُس کے لگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہوگیا ہوں اس قدر حساس مَیں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
وہ سب گُزرے ہوئے لمحات مجھ کو یاد آتے ہیں
تمہارے خط جو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
مَیں سارا دِن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اِک مُفلس کے ماتھے پر اَلم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کے اُونچے بَد نما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ترے کوچے سے اَب میرا تعلق وَاجبی سَا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر
وصیؔ مَیں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Reply


Forum Jump:


Users browsing this thread: 1 Guest(s)