Thread Rating:
  • 100 Vote(s) - 2.73 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
٘میٹرو میاں برادران کو لے ڈوبی
#1
[Image: 5dDXKRq.jpg]


لاہور: دنیا بھر میں عوامی مفاد کے نام پر تعمیر کئے جانے والے منصوبے دو اقسام کے ہوتے ہیں ایک ہمہ جہتی جن کی تعمیر و تکمیل سے عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے اور جن کے باعث ریاستی و قومی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے جبکہ دوسرے وہ منصوبے ہوتے ہیں جو حکمران طبقات کی حکمرانی کی مدت میں توسیع کا باعث بنتے ہیں۔ اس قسم کے تمام منصوبوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ زمین پر اپنے وجود کا بڑے پیمانے پر احساس دلاتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے ایسے منصوبوں کی تعمیر کرنے والوں کی حکمرانی کا احساس دلاتے رہتے ہیں مگر ایسے منصوبے عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ میاں برادران کی جانب سے میٹرو بس‘ گرین لائن ٹرین اور اسی طرح کے دوسرے بڑے منصوبے نہ صرف ان کے اقتدار کو استحکام دینے کی کوشش قرار دیئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں 45 فیصد سے زائد عوام دو وقت کی روٹی کو محروم ہیں اور جہاں کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ کوئٹہ اور راولپنڈی‘ ملتان جیسے بڑے شہروں کے عوام صاف پانی‘ سیوریج لائن جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں‘ وہاں حکمران میٹرو جیسے پرتعیش منصوبے جن کی نظیر یورپ و امریکہ میں ملتی ہے‘ لاکر عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کی طوالت و مضبوطی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ پاکستان کے دانشور طبقات کی مشترکہ رائے ہے کہ میاں برادران کے منصوبے اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ عوامی مسائل کو خاطر میں نہیں لاتے اور انہیں صرف اپنے اقتدار کی فکر ہے جبکہ ایک دانشور طبقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ میاں برادران تحریک انصاف کی فروغ پاتی سیاست سے خوفزدہ ہوکر بھی ایسے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں جو عوام کو اٹھتے بیٹھتے ان کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ دانشور طبقات کا خیال ہے تاہم تاریخی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ زمین پر نظر آنے والے پرتعیش اور بارعب منصوبے جن کی تعمیر میں عوامی مفاد کو کم اور حکمرانوں کے مفاد کو عزیز رکھا گیا ہے۔ ان کی سیاست و حکومت کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان میں آج کل زبان زدعام ہے کہ میاں برادران روٹی‘ پانی‘ بجلی‘ گیس جیسی بنیادی ضروریات کے بدلے بھی میٹرو بس یا گرین و اورنج ٹرین فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے میٹروبس اور اس جیسے منصوبوں کے اصل تخلیق کار پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ہیں جنہوں نے 2013ءکے عام انتخابات سے قبل ضد کرکے لاہور میں میٹرو بس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور وہ سمجھتے ہیں 2013ءکے عام انتخابات میں (ن) لیگ کو کامیابی دلانے میں میٹرو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادھر ایک اہم ترین سرکاری ذریعے نے انکشاف کیا ہے وزیراعظم نے موٹر وے کی مرمت کیلئے 500 ارب روپے میں ایک سکیورٹی ادارے کی کمپنی کو ٹھیکہ اس شرط پر دیا کہ موٹر وے کی مرمت 2018ءکے عام انتخابات سے قبل مکمل کرلی جائے تاکہ وہ عام انتخابات میں موٹر وے کی مرمت کا کریڈٹ بھی لے سکیں۔ ملتان میں میٹرو بس کی تعمیر کے آغاز کے ساتھ لاہور میں ٹرین منصوبے کو جلد از جلد شروع کرنے والی پنجاب حکومت کے قائدین کہتے ہیں کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو کسی بھی نئے منصوبے کی منظوری دینے سے قبل وعدہ لیتے ہیں کہ اگر وہ منصوبے کو عام انتخابات سے قبل مکمل کرسکتے ہیں تو منظوری دی جائے گی ورنہ انہیں پنجاب میں کسی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔ ملک کے دانشور طبقہ کا خیال ہے کہ اگر میاں برادران نے میٹرو اور ان جیسے منصوبوں پر خرچ کی جانے والی کھربوں روپے کی دولت بجلی کے منصوبوں پر خرچ کی ہوتی تو آج ملک اندھیروں میں ہرگز نہ ڈوبا ہوتا۔ دانشور طبقہ کا خیال ہے کہ جس ملک کے عوام کی ایک بڑی اکثریت زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو وہاں میگا پراجیکٹ‘ عوامی سطح پر اشتعال‘ غصہ‘ نفرت اور مایوسی کو ہوا دینے کا باعث بنتے ہیں اور آنے والے دنوں میں جوں جوں دن گزرتے جائیں گے مرکزی حکومت کے ساتھ پنجاب حکومت کے میگا پراجیکٹ معاشرے میں انتشار‘ توڑ پھوڑ کا باعث بنیں گے جبکہ یہی وہ پراجیکٹ ہیں جو آئندہ کسی عام انتخابات میں (ن) لیگ کی شکست کی بڑی وجہ بنیں گے۔
Reply


Forum Jump:


Users browsing this thread: 1 Guest(s)