Thread Rating:
  • 96 Vote(s) - 2.76 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
#1
Sad 
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جِن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں ہوں، نہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنّا کے سرابوں میں ملیں
Reply


Possibly Related Threads...
Thread Author Replies Views Last Post
Star کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ajmalworld 0 926 06-06-2016, 06:52 AM
Last Post: ajmalworld

Forum Jump:


Users browsing this thread: 1 Guest(s)